کولکاتہ، 28 جون(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مغربی بنگال حکومت کے ایک اور فیصلے پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے مخالفت شروع کر دی ہے۔دراصل حکومت نے مدد یافتہ اسکولوں میں مڈ ڈے مل کے لئے ڈائننگ ہال بنانے کا حکم دیا ہے، لیکن یہ ڈائننگ ہال انہیں اسکولوں میں بنیں گے جہاں 70 فیصد سے زیادہ اقلیتی بچے پڑھتے ہیں۔بی جے پی نے ممتا حکومت کے حکم پر سوال اٹھایا۔مغربی بنگال بی جے پی صدر دلیپ گھوش نے کہا کہ ایک بار پھر بنگال میں تقسیم کی سیاست کی جا رہی ہے،مذہب کی بنیاد پر لوگوں کو تقسیم کیا جا رہا ہے۔ممتا بنرجی کا یہ قدم ٹھیک نہیں ہے۔تنازعہ بڑھنے کے بعد ممتا حکومت نے وضاحت جاری کی۔ریاستی حکومت نے کہا کہ یہ اقلیتی امور کے محکمہ کی طرف سے چلایا جا رہا ایک پروجیکٹ ہے۔اقلیتی امور کے وزیر مملکت غیاث الدین مولا نے کہا کہ یہ اقلیتی امور کے محکمہ کی طرف سے چلایا جا رہا ایک پروجیکٹ ہے۔اس پروجیکٹ کے تحت محکمہ اقلیتی اکثریتی اداروں میں بنیادی ڈھانچے کی اپ گریڈ کے لئے کام کر رہا ہے،تاکہ اقلیتی طلبا کی ترقی یقینی ہو سکے۔وزیر نے پوزیشن کو صاف کرتے ہوئے بتایا کہ چونکہ فنڈ اقلیتی امور کی وزارت کی طرف سے جاری کیا گیا ہے اسی لیے اس فنڈ کا استعمال انہیں اداروں میں کیا جا سکتا ہے جہاں اقلیتی کمیونٹی کے بچے زیادہ تعداد میں پڑھتے ہیں۔